ابنا: ارنا کے مطابق نیٹو کی فوجی کمیٹی کے سربراہ جنرل بارٹلز نے ماسکو میں روس کی مسلح افواج کی اکیڈمی میں ایک نشست کے دوران شام میں فوجی مداخلت کے امکان سے متعلق بعض رپورٹوں کے بارے میں کہا کہ یہ رپورٹیں غلط ہیں اور نیٹو کا شام میں فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کا دعوی تھا کہ نیٹو کا شام میں سرگرم مسلح گروہوں کو امداد پہنچانے کا بھی کوئی پروگرام نہیں ہے حالانکہ امریکا، برطانیہ اور فرانس ترکی، قطر اور سعودی عرب کے تعاون سے شام میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کو اعلانیہ مالی اور فوجی امداد پہنچا رہے ہیں۔ نیٹو کی فوجی کمیٹی کے سربراہ جنرل بارٹلز نے کہا کہ نیٹو نزدیک سے شام کے حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کو ـ بقول ان کے ـ اس ملک میں موجود کیمیائی اسلحے کے استعمال کے امکان کی جانب سے تشویش ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرے فوگ راسموسن نے بھی سنیچر کو شام کے بحران کے سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی حل ہی شام کے بحران کا بہترین حل ہے اور نیٹو شام میں فوجی مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔/110
16 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 372892
نیٹو نیٹو کی فوجی کمیٹی کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کا شام میں فوجی مداخلت کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔